Anchor

ازبکستان، ایک بدلتی ہوئی سرزمین کا احساس

تحریر ثنا توصیف

اس سال میرا ازبکستان کا دوسرا سفر تھا، مگر اس بار تجربہ کچھ اور ہی رنگ لئے آیا۔ پہلی بار جب میں یہاں آئی تھی تو دل شاہراہ ریشم کے جادو میں پوری طرح گرفتار تھا۔۔۔ وہ سب ایک مسافر کی سی معصوم حیرت، ایک خواب کی سی کیفیت جیسا تھا۔ مگر اس بار سفر کا مقصد کچھ اور تھا۔ مجھے تاشقند میں ہونے والی انٹرنیشنل ٹورزم کانفرنس میں شرکت کی دعوت ملی تھی، اور اس کانفرنس سے قبل میرا شوق سفر مجھے سمرقند لے آیا۔۔۔ وہ شہر جو اس قدیم راستے کی روح ہے، جہاں تاریخ نہ صرف محفوظ ہے بلکہ دھڑکتی محسوس ہوتی ہے۔

سمرقند پہنچتے ہی پھر وہی احساس جاگا جیسے زمانے کی پرتیں مجھ پر کھل رہی ہوں۔ اگرچہ یہ اس شہر میں میرا دوسرا دورہ تھا، لیکن شہر کے مزاج نے ایک بار پھر خاموشی سے دل کو سکون سے بھر دیا۔

ریگستان (Registan) میں غروبِ آفتاب کا منظر ایسا تھا جیسے کوئی پرانی داستان نیلی کاشی اور جیومیٹری کی زبان میں دوبارہ لکھی جا رہی ہو۔ شاہِ زِندہ کی گلیوں میں چلتے ہوئے مجھے وہی پرانا جادو محسوس ہوا، مگر اس بار ایک نئے شعور کے ساتھ۔ اور وہ یہ کہ یہ عمارتیں محض محفوظ نہیں رکھی گئیں، بلکہ انہیں زندہ کیا گیا ہے—سوچ سمجھ کر، محبت اور اس فخر کے ساتھ کہ یہ ورثہ دنیا کو دکھانے کے قابل ہے۔ شہر کی بحالی، منظم ٹورز، مقامی ہنر مندوں کی جگمگاتی کاریگری، اور وہ کمیونٹی جو اپنی تاریخ کو فخر سے بیان کرتی ہےسب مل کر نئے سمرقند کی کہانی سناتے ہیں۔ سمرقند کی انٹرنیشنل ٹورزم یونیورسٹی کے دورے نے اس احساس کو مکمل کر دیا کہ یہ ملک صرف اپنے ماضی پر تکیہ نہیں کرتا بلکہ اپنی نئی نسل کو آنے والے زمانے کے لیے پوری طرح تیار کر رہا ہے۔

سمرقند سے بخارا تک کا سفر ہائی اسپیڈ ٹرین پر ہوا، یہ ایک ایسا تجربہ تھا کہ جس میں وقت کے نرم بہاؤ میں سفر کرنے کا عمل محسوس کیا جا سکتا ہے۔ بخارا پہنچ کر ایسا لگا جیسے کسی زندہ میوزیم میں داخل ہو گئی ہوں۔ اس کے چائے خانے گفتگو سے بھرپور، اس کے پرانے کاروان سرائے آج جدید آرٹسٹک اسٹوڈیوز کا روپ دھار چکے ہیں، اور صدیوں پرانی عمارتوں سے گونجتی اذان کی آواز فضا میں ایک گہرا روحانی لمس چھوڑتی ہے۔ اس بار شہر میں ایک نیا اعتماد نظر آیا—بحال شدہ گلیاں جہاں رات کی نرم روشنیوں میں سیاح بے فکری سے گھومتے دکھائی دیتے تھے، کاریگر جو اپنے قدیم ہنر کو نئے انداز کے ساتھ پیش کر رہے تھے، اور ایک فضا جس میں تاریخ اور جدیدیت کا امتزاج بڑی نزاکت سے سانس لیتا تھا۔ بخارا قدیم ضرور ہے، لیکن اس کی قدامت میں ایک باوقار ٹھہراؤ، ایک مضبوط شناخت اور ایک حیرت انگیز شان جھلکتی ہے۔

پھر سفر مجھے خیوا لے آیا—ایک ایسا شہر جو میری اس پوری سفر کی اصل جھلک بن گیا۔ اچان قلعہ کی فصیلیں دور سے ہی آپ کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہیں۔ اس شہر کا حسن کسی وقت میں منجمد تصویر کی طرح ہے—صاف، مکمل، اور حیران کر دینے والا۔ یہاں کی گلیاں ابھی تک پرانی سانسوں کی خوشبو رکھتی ہیں۔ بحال شدہ راستے، منظم سہولیات، شام کے وقت قلعے کا روشن ہونا، اور میناروں پر پڑتی پہلی دھوپ—سب کچھ مل کر ایسا منظر تخلیق کرتے ہیں جو دل کو دیر تک اپنی اثر میں رکھتا ہے۔ خیوا کی اصل خوبصورتی اس کی سادگی میں ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اسے ازبکستان کی سب سے زیادہ محفوظ تاریخی جگہ سمجھا جاتا ہے۔ حکومت 2026 تک اس شہر تک ہائی اسپیڈ ٹرین چلانے کی تیاری کر رہی ہے، تاکہ یہاں تک رسائی پہلے سے زیادہ آسان اور آرام دہ ہو سکے۔

آخری پڑاؤ تھا تاشقند—ایک ایسا شہر جس میں جدید دنیا کی رفتار اور توانائی واضح طور پر محسوس ہوتی ہے۔ قدیم شہروں میں کئی دن گزارنے کے بعد تاشقند کی چکا چوند اور اس کی رفتار نے ایک الگ ہی تاثر چھوڑا۔ انٹرنیشنل ٹورزم کانفرنس ایک ایسی محفل تھی جہاں مستقبل کے منصوبے اور نئے خواب ایک ہی چھت تلے دکھائی دے رہے تھے۔ دنیا بھر سے آئے وفود، حکومتی شخصیات، سرمایہ کار، سیاحتی ماہرین، سب اس بات کے گواہ تھے کہ دنیا کی نظریں واقعی ازبکستان پر ہیں۔ کانفرنس میں پائیداری، ورثے کے تحفظ، ڈیجیٹل ٹورزم، انفراسٹرکچر، علاقائی روابط سمیت ہر موضوع پر گہری گفتگو ہوئی اور سب سے نمایاں چیز رہی ازبک قیادت کا وہ اعتماد اور وژن جو اپنے ملک کو ایک نئی شناخت دینے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

ازبکستان کے لوگ اس ملک کا اصل حسن ہیں۔ ان میں سادگی ہے مگر فخر بھی، عاجزی ہے مگر وقار بھی۔ نوجوان نسل حیرت انگیز طور پر باصلاحیت، ملٹی لنگول اور جدید فکر رکھتی ہے۔ ان کے اندر اپنے وطن کو آگے بڑھانے کی ایک غیر معمولی خواہش دکھائی دیتی ہے۔ دکاندار ہوں یا گائیڈ، دستکار ہوں یا ہوٹل کا عملہ—سب کی آنکھوں میں ایک ہی لگن نظر آئی: اپنے ملک کو دنیا کے سامنے بہترین صورت میں پیش کرنے کی خواہش۔

ازبکستان آج ایک سوچے سمجھے سفر پر ہے۔ ای ویزا کی آسانیاں، انفراسٹرکچر کی تیز رفتار ترقی، اور عالمی ایونٹس کی میزبانی کے لیے کیا جانے والا کام—سب اس بات کی علامت ہیں کہ یہ ملک دنیا کے سامنے پوری تیاری کے ساتھ کھڑا ہونا چاہتا ہے۔

ایک پاکستانی ہونے کے ناتے مجھے ازبکستان سے ایک فطری رشتہ محسوس ہوا۔ ہمارا ماضی، تجارت، ثقافت اور روحانی تاریخ کئی جگہوں پر ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سیاحت اور تعاون کے بے شمار امکانات موجود ہیں، اور خوشی ہے کہ براہِ راست پروازوں، تجارتی شراکت داری اور دیگر اقدامات کے ذریعے یہ تعلقات مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔

میرا یہ دوسرا سفر ایک طرح سے ازبکستان کی نئی پہچان دیکھنے جیسا تھا—ایک ایسا ملک جو اپنی تاریخ کو صرف محفوظ نہیں کر رہا، بلکہ اپنے مستقبل کو پوری سنجیدگی کے ساتھ تعمیر کر رہا ہے۔ تاشقند سے رخصت ہوتے وقت میں اپنے ساتھ سمرقند کے رنگ، بخارا کی روح، خیوا کی خاموش صبحیں اور سب سے بڑھ کر ازبک لوگوں کی گرمجوشی، محبت اور مہمان نوازی لے کر لوٹی۔ اور مجھے یقین ہے کہ جب میں تیسری بار یہاں آؤں گی تو یہ ملک اپنے سفر میں مزید آگے بڑھ چکا ہو گا—زیادہ پُراعتماد، زیادہ روشن، اور زیادہ نمایاں۔

مصنفہ ایک فلم میکر، فری لانس کالم نگار اور سفر کی شوقین ہیں۔ یہ تحریر انگریزی زبان میں فنانشل ڈیلی میں شائع ہوئی۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.